غزہ6مئی ( ایس او نیوز؍آ ئی این ایس انڈیا )ایک حادثہ قرار دیا ہے اور اس کے مطابق حماس کے کارکنان دھماکہ خیز مواد اچانک پھٹ جانے سے ہلاک ہوگئے ۔اس سے پہلے غزہ کی وزارت صحت نے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ 3 افراد زخمی ہوئے ہیں۔الزوایدہ کے مکینوں نے بھی اس واقعہ کو ایک حادثہ قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے اس واقعہ کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں پہلے بھی اس طرح حادثاتی طور پر دھماکہ خیز مواد یا سلنڈر پھٹنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کے متعدد کارکنان ان واقعات کی نذر ہوچکے ہیں۔قبل ازیں کل فلسطینیوں کا ایک گروپ اسرائیل کی لگائی گئی سرحدی باڑھ کو عبور کرتے ہوئے اسرائیلی علاقہ میں داخل ہو گیا۔ فلسطینی مظاہرین نے جمعہ کو مسلسل چھٹی مرتبہ اسرائیل کی چیرہ دستیوں ، فلسطینی سرزمین پر قبضے اور مہاجرین کے حق واپسی کے لیے ہفت وار احتجاجی مظاہرے کیے۔اسرائیل مخالف یہ احتجاجی مظاہرے حماس کی منظم کردہ مہم کا حصہ ہیں۔غزہ کے مکین اسرائیلی فوج کی گذشتہ 11 سال سے جاری ناکہ بندی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اسرائیل فوج نے 2007ء کے وسط میں حماس کا غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے محاصرہ کررکھا ہے۔مارچ کے آخر ی ہفتے کے بعد سے اسرائیلی فوج کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ سے کم سے کم 40 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔